Daily Hadith

*بسم الله الرحمن الرحيم*

*تـــــوضیــح الاحــــادیث*

🔸 *حدیث نمبر 39 :*

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلّّمْ:

مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً.《رواہ احمد والترمذی》

🔹 *ترجمہ*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو دیکھا اور اس کو چھپا رکھا تو گویا اس نے کسی زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کو بچالیا۔

*حوالہ۔* مشکوة المصابیح جلد نمبر 2 *باب الشفقة والرحمة علی الخلق* صفحہ نمبر *267* *مکتبہ البشری*

♦ *_وضاحت_*
اسلام ہمیں دوسروں کے عیب چھپانے کا حکم دیتا ہے۔ صرف وہ باتیں اس میں شامل نہیں جس سے کسی کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ مثلا مجھے پتا چلا کہ فلاں صاحب اپنی بیٹی کا نکاح ایک ایسے شخص سے کر رہے ہیں جو بہت زیادہ سخت طبیعت کا ہے۔ اب اگر مجھے اسکی یہ خامی پتا ہے اور وہ صاحب مجھ سے مشورہ کرنے آئیں کے میں اپنی لڑکی اسکو دے دوں؟ تو یہاں اس کا عیب بتا دینا شریعت میں منع نہیں۔ میرے لیے حکم یہی ہوگا کہ میں ان صاحب کو بتا دوں کہ لڑکی تو دے رہے ہو یہ بھی دیکھ لو وہ لڑکا صحیح نہیں ہے اسکی دوستیاں غلط لوگوں میں ہیں یا اسکی کمائی حرام ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے موقعوں پر عیب بتا دینا جائز ہے۔ ورنہ عمومی طور پر دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم ہے۔
واللہ اعلم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s